ݜݨیا بیاک

انُہ بیاک ݜݨیاٗ چولیْئ اتھلارےْ کار ہن

انُہ بیاک ݜݨیاٗ چولیْئ اتھلارےْ کار ہن

شنیا زبان کے بارے میں کچھ کتابیں

لکھاروۡ:مولانا عبدالخالق ہمدرد آزاد کشیر

کچھ عرصہ قبل میں نے دو چار تحریریں شنیا زبان کے حوالے سے لکھی تھیں۔ ان میں اکثر باتیں ذاتی مشاہدے اور تجربے پر مبنی تھیں۔ ان تحریروں کا مقصد شنیا زبان کو اچھے انداز سے تحریر میں لانے کے لئے کچھ تجاویز پیش کرنا تھا، مگر ہر بار یہاں تک پہنچنے سے قبل ہی بات دوسری طرف نکل جاتی رہی۔ اس بار بھی یہی خدشہ تھا اس لئے تحریر کا عنوان ہی بدل دیا تاکہ اس کے اندر رہ کر بات کی جا سکے۔


شنیا زبان تا حال کچھ تحریری کام ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے کی زبان نہیں بن سکی البتہ اب اس کی ترویج کے لئے کسی نہ کسی شکل میں باقاعدہ کام ہو رہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ ان کوششوں سے اس زبان کو ان شاء اللہ ترقی ملے گی اور شاید اگلی نسل اسے لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جائے گی۔


شنیا بلا شبہہ ہزاروں سال پرانی زبان ہے اور اس کے بارے میں شاید پہلی کتاب Grammar of The Shina Language جو T. Grahame Bailey نامی انگریز مصنف نے لکھی اور 1924 میں لندن سے چھپی۔ گلگت کے لہجے پر مشتمل یہ ایک مربوط اور مفصل کتاب ہے جس میں شنیا کے دیگر مشہور لہجوں کے بارے میں بھی مواد جمع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نیٹ پر مفت دستیاب ہے۔ اس میں گرامر ہے مگر رسم الخط انگریزی ہے اور مخصوص آوازوں کو مختلف اضافی شکلوں، لکیروں یا نقطوں سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔


ایک اور کتاب Grammar of Shina Language And Vocabulary ہے جو B. B. Rajaprohit نے 1971-1973 دوران مقبوضہ کشمیر کے علاقے دراس کے لہجے پر لکھی ہے۔ یہ کتاب ہندوستان سے چھپی ہے اور نیٹ پر مفت دستیاب ہے۔ اس میں مؤلف نے مقامی لوگوں سے سن اور پوچھ کر مواد یکجا کیا اور اس کو بین الاقوامی علامتوں کے ذریعے تحریر کیا ہے۔ دراسی لہجہ جاننے کے لئے یہ ایک اچھی کتاب ہے۔


ان کتابوں کے علاوہ بھی انگریز مصنفین نے اور بھی کئی کتابیں لکھی ہیں یا دیگر زبانوں کے ضمن میں شینا کو بھی زیر بحث لایا ہے جبکہ اردو رسم الخط میں شنیا کی پہلی کتاب شاید حضرت مولانا غلام النصیر چلاسی المعروف چلاسی بابا کی ‘‘زاد سفر’’ ہے لیکن اس کے آغاز میں صرف مخصوص حروف کی شکلیں بتائی گئی ہیں اور اس کے بعد منظوم کلام شروع ہو جاتا ہے۔ بابا کا کلام ٹھیٹھ چلاسی لہجے میں ہے۔


شنیا کی ایک اور گرامر رازول کوہستانی نے بھی لکھی ہے لیکن میں اس کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے محمد امین ضیاء کی کتاب ‘‘شینا قاعدہ اور گرائمر’’ کا جو 1986 میں گلگت سے چھپی۔ یہ شاید پاکستان میں شینا زبان کا اردو رسم الخط میں پہلا مربوط گرامر ہے جس میں گلگت کے لہجے کو نہایت خوبصورتی سے سمویا گیا ہے۔ اس میں زبان کی باریکیوں کو بھی رسم الخط میں علامتوں کے ذریعے سمونے کی کوشش کی گئی۔ اس سے پڑھنے میں تو واقعی کچھ سہولت ہو گئی ہے مگر علامتیں حد سے زیادہ ہیں۔ شاید اسی لئے بعد میں لکھی جانے والی کتابوں میں ان علامتوں کی جانب بہت کم توجہ دی گئی ہے۔


ایک اور کتاب ڈاکٹر ناموس کی ''گلگت اور شینا زبان''  ہے جو ایبٹ آباد پوسٹ گریجویٹ کالج کے کتب خانے میں دیکھی تھی۔ یہ بھی بہت اچھی کتاب ہے۔


اسی طرح شکیل احمد شکیل نے ‘‘شینا زبان ۔۔۔۔ نظام پڑھائی لکھائی کا جائزہ’’ کے نام سے ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے جس میں زبان کے مختلف مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کتابیں ہیں مگر میری ان تک رسائی نہیں ہو سکی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شینا قاعدہ مقامی سکولوں میں آ گیا ہے مگر ایک متلقہ صاحب سے کچھ رابطہ ہونے کے باوجود تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔


ان شاء اللہ اگلی قسط میں (اگر پھر نہ پھسل گیا تو) رسم الخط کے بارے میں اپنی تجاویز کے ساتھ اس بحث کو سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔ (ھمدردیات)