ݜݨیا بیاک

انُہ بیاک ݜݨیاٗ چولیْئ اتھلارےْ کار ہن

انُہ بیاک ݜݨیاٗ چولیْئ اتھلارےْ کار ہن

۲۲ مطلب با کلمه‌ی کلیدی «گلگتی زبان» ثبت شده است

بِیموٓگوۡ دیزئ بیت

بسم الله الرحمن الرحیم۔اللهمّ افْتَحْ لی فیهِ أبوابَ الجِنانِ واغْلِقْ عَنّی فیهِ أبوابَ النّیرانِ وَوَفّقْنیفیهِ لِتِلاوَةِ القرآنِ یا مُنَزّلِ السّکینةِ فی قُلوبِ المؤمِنین.

ݜݨآ پھیر:

وا میئ دبون! انہ دیز (گہ مازیر) مٹ بہݜو در باتو تھے،نے مٹ دولوکو در ٹُم تھے،نے انہ دیز (گہ مازیر)  مہ قرآنئ تلاوتے کار کامیاب تھے،وا مومنانو ہیر ݜو ولیک۔ہیں

باتو کھلا۔ٹُم بند۔دولوک جہنم۔ݜو  آرام۔

06 June 18 ، 16:19
غلام رسول ولایتـی

رسم الخط ۔۔۔۔ لکیروں کا کھیل!!! ۔۔۔۔۔ اور دنیا کا سب سے خوبصورت رسم الخط

لکھارو:مولانا عبدالخالق ہمدرد آزاد کشیر

مجھے دنیا میں بہت سی چیزوں پر حیرت ہوتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ رسم الخط ان چیزوں میں سر فہرست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک آدمی کچھ لکیریں، دائرے یا ملی جلی شکلیں بناتا ہے اور دوسرا ان لکیروں کو سمجھتا ہے اور جب ان کو پڑھتا ہے تو ان کے اندر سے الفاظ بر آمد ہوتے ہیں۔ 

04 June 18 ، 15:27
غلام رسول ولایتـی

کُنِموٓگو دیزئ بیت

بسم الله الرحمن الرحیم.اللهمّ وفّرْ فیهِ حَظّی من بَرَکاتِهِ وسَهّلْ سَبیلی الی خَیْراتِهِ ولا تَحْرِمْنی قَبولَ حَسَناتِهِ یا هادیاً الی الحَقّ المُبین.

ݜنیآ پھیٓر:

وا مئ دبون انہ دیز گہ مازیر نسئ برکاتے جو مئ بگو بسکو تھے، نے مئ پون سُبش تھرے نسئ مݜٹیارے وار،
نے مہ پُھونݜوۡ نہ تھے نسئ شِینِیے تھوکے جو وا پون پشآریک لم سم سڇآرے وار۔ہیں
لغت: سبش آسان۔مݜٹیار خیر۔پھونݜو نہ تھے محروم نہ کر۔شینیے خیر۔لم سم آشکار۔ 

۱  لوۡگَموۡر 04 June 18 ، 15:12
غلام رسول ولایتـی

انݜٹَیموٓگوۡ دیزئ بُیت

بسم الله الرحمن الرحیم۔اللهمّ نَبّهْنی فیهِ لِبَرَکاتِ أسْحارِهِ ونوّرْ فیهِ قلبی بِضِیاءِ أنْوارِهِ وخُذْ بِکُلّ أعْضائی الی اتّباعِ آثارِهِ بِنورِکَ یا مُنَوّرَ قُلوبِ العارفین.

ݜݨیآ پھیر:
وا میئ دبون!انہ دیز گہ مازیر نسئ سحرئ برکاتِہ مٹ لیل تھرے، نے نسر میئ ہیو نسئ سنگئ ݜرے گیے لُپے،نے میئ بن بنِہ نسئ پون دا ییوک تھے،
وا دݜُوٓکوں ہیو برنگ سنگ تھیک۔ہیں۔
لغت: ݜرے پرتو۔لُپے روشن کرنا۔بن بنِہ جوڑ جسم۔دݜُوٓک انتہائی معرفت رکھنے والا۔برنگ سنگ روشن۔

04 June 18 ، 15:01
غلام رسول ولایتـی

‘‘شنیا’’ زبان کی صوتی مشکلات

لکھاروۡ:مولانا عبدالخالق ہمدرد آزاد کشیر

میرے ایک کوہستانی دوست ہیں۔ شاید ہم دو سال، ہم جماعت بھی رہے لیکن اس دوران کوئی زیادہ تفصیلی تبادلہء خیال کی نوبت نہیں آ سکی۔ پچھلے سال کوئی سولہ سال بعد فون پر ان سے بات ہوئی اور میں نے ‘‘شنیا’’ میں بات کی توان کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور کہنے لگے ‘‘ارے ظالم تم نے یہ زبان بھی سیکھ لی ہے’’۔ میں نے ان کو بڑی مشکل سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ میری مادری زبان ہے۔ اس میں ان کی حیرت کی وجہ شاید یہ تھی کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ‘‘شنیا’’ سیکھ کر بولتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک پر میں اس تحریر میں بات کرنا چاہوں گا۔

02 June 18 ، 05:25
غلام رسول ولایتـی

‘‘ شنیا’’ اور اس کی پڑوسی زبانیں

لکھاروۡ:مولانا عبدالخالق ہمدرد آزاد کشیر 

‘‘ شنیا’’ کی پڑوسی زبانوں کے ساتھ اس کا صوتی اشتراک ہے۔ کوہستان میں دریا کی ایک جانب شنیا اور دوسری جانب کوہستانی یا ‘‘کھلچیا’’ زبان بولی جاتی ہے۔ ان دونوں زبانوں میں آوازوں کا کوئی فرق نہیں۔ اس لئے وہ ایک دوسرے کی زبان آسانی سے سیکھ سکتے ہیں البتہ صوتی آہنگ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ متکلم کی اصلی زبان کون سی ہے۔

02 June 18 ، 05:12
غلام رسول ولایتـی

’’میں کہ ایک بے زبان جانور ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

لکھارو:مولانا عبدالخالق ہمدرد آزاد کشیر

کہتے ہیں کہ مردم شماری کے دوران سرکاری ٹیم ایک ایسے صاحب کے پاس پہنچی جس نے کئی کتابیں لکھی تھیں، برسوں سے خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے، بڑے اچھے شاعر بھی تھے اور اپنے علاقے کے مانے جانے عالم بھی۔ مردم شماری والوں نے جب ان سے تعلیم کا پوچھا توانہوں نے یہ ساری باتیں بتائیں، مگر وہ بولے کہ مولانا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ پرائمری، میٹرک، ایف اے، بی اے؟؟؟ 

01 June 18 ، 22:17
غلام رسول ولایتـی

ݜویموٓگوۡ دیزئ بیت

بسم الله الرحمن الرحیم۔ اللهمّ وَفّقْنی فیهِ لِموافَقَةِ الأبْرارِ وجَنّبْنی فیهِ مُرافَقَةِ الأشْرارِ وأوِنی فیهِ بِرَحْمَتِکَ الی دارِ القَرارِبالهِیّتَکِ یا إلَهَ العالَمین۔

ݜݨآ پھیر:وا میئ دبون انہ دیز (گہ مازیر) شے منڙو سانت بوک تونے کھچے منڙو جو دور بوک مئ بگو تھے، نےتوم جآکے سانت سُدُنِہ بیاکر مٹ دش دے ،توم دَبونیار گینِہ وا دنیاتو دبون

شے منڙے نیک لوگ۔کھچے برے۔جآک رحمت۔سدنِہ قرار،پرسکون۔دبونیآر الہیَّت۔
01 June 18 ، 05:48
غلام رسول ولایتـی

پنزَیموٓگوۡ دیزئ بیت

اللهمّ ارْزُقْنی فیهِ طاعَةَ الخاشِعین واشْرَحْ فیهِ صَدْری بإنابَةِ المُخْبتینَ بأمانِکَ یا أمانَ الخائِفین.

ݜݨآ پھیٓر:
وا میئ دبون! انہ دیز (گہ مازیر
)ہِیوۡ ویٓلوۡ ہنُکوں مور کوۡݨ دنِیٖ مئ بگوۡ تھےۡ،نے انہ دیز (گہ مازیر) میئ ہِییٹ دسآر دےۡ ہیَݜاتو پھیرِیے نلآ ،توم رڇھنیے کار وا (څھئ بڑیارے جو)بِجینکوج ہت شیار تھیک۔ہیں!!!

ہیو ویلو  نرم دل۔مور کوݨ دنی اطاعت،بات مانی۔دسآر شرح۔ہیݜاتے  دلبستگان۔پھیری بازگشت،توبہ۔ہت شیار امان دینا۔

31 May 18 ، 14:15
غلام رسول ولایتـی

دیموٓگوۡ دیزئ بُیت

اَللّـهُمَّ اجْعَلْنی فیهِ مِنَ الْمُتَوَکِّلینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنی فیهِ مِنَ الْفائِزینَ لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنی فیهِ مِنَ الْمُقَرَّبینَ اِلَیْکَ، بإحسانک یا غایَةَ الطّالِبینَ۔

ترجمة

وا میئ دبون! انُہ ماز( گہ دیزیر) مہ تُج دَک تھینکوۡ جو تھے، نے توکچ اُڇھتےۡ ایٓنو جو تھے ،نے توکچ ایلیآر چھورینکوۡ جو تھے،توم شِیار گینِہ وا اوۡڈورو منتہیٰ۔

دک توکل۔اڇھتے  پہنچے ہوے۔ایلیآر  قُرب۔شیار احسان۔اوڈورو طالب۔

27 May 18 ، 05:18
غلام رسول ولایتـی